ابنا: ان مقتولین کو سرب فوج نے قتل عام کے بعد اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا تھا اور اب ان کی شناخت کے بعد انہیں علیحدہ علیحدہ قبروں میں دفن کیا جا رہا ہے۔
جمعرات کو دفن کیے جانے والے مقتولین میں 44 نوعمر لڑکے اور ایک نوزائیدہ بچی بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس قتل عام کے دو ہزار تین سو چھ متاثرین ابھی بھی لاپتہ ہیں۔
دو بیٹوں کی ماں رمیزا سلجکوک نے آنکھوں سے جاری اشکوں کے درمیان بتایا کہ مجھے ایسا محسوس ہو رہا کہ جیسے آج پھر سے میں انہیں کھو رہی ہوں۔
واضح ہو کہ بوسنیا میں 1992 سے 1995 کے دوران نسلی فسادات میں سرب فوجیوں نے کم سے کم ایک لاکھ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔
تدفین کے منتظم افسر کنعان کرادچ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ آج ہم اس قتل عام کا شکار ہونے والے سب سے کمسن بچے کو دفنا رہے ہیں جس کی باقیات 2012 میں ایک اجتماعی قبر سے ملی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بچی کو اس کے والد حجرالدین کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا ہے جو خود بھی اس قتل عام میں مارے گئے تھے۔
ان 409 افراد کو پوٹوکاری نامی خصوصی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا ہے جہاں اس قتل عام میں مارے جانے والے چھ ہزار چھیاسٹھ افراد اب تک دفن کیے جا چکے ہیں جبکہ 2306 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
تدفین کے موقع پر ہزاروں افراد پوٹوکاری پہنچے جہاں سبز کپڑے سے ڈھکے تابوتوں کو ایک بڑے ہال میں رکھا گیا تھا۔ قبرستان آنے والے افراد میں دفن کیے جانے والوں کے رشتہ داروں اور دوستوں کے علاوہ عام بوسنیائی شہری بھی شامل تھے۔
سربرنیتزا کو انیس سو نوے کی دہائی میں یوگوسلاویہ کے خاتمے کے وقت اقوام متحدہ نے محفوظ علاقہ قرار دیا تھا۔
سنہ انیس سو پچانوے میں چھ سے آٹھ جولائی کے درمیان سرب افواج نے سربرنیتسا کے اس محفوظ علاقے کا محاصرہ کر لیا جہاں پر شمال مشرقی بوسنیا میں سرب افواج کے حملے سے بچنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں بوسنیائی شہریوں نے پناہ لے رکھی تھی۔
ہزاروں کی تعداد میں ان نہتے شہریوں کی حفاظت اقوام متحدہ کے چھ سو کے قریب ڈچ انفینٹری دستے کر رہے تھے لیکن بوسنیائی سرب فوج نے اقوام متحدہ کی اس فوج کی موجودگی کے باوجود آٹھ ہزار سے زیادہ مسلمان مردوں، عورتوں، اور بچوں کا قتل عام کر دیا۔
اس قتل عام کو یورپ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد تشدد کا سب سے بڑا واقعہ کہا جاتا ہے۔
سربرنیتزا کے قتل عام کو جرائم کی عالمی عدالت اور سابق یوگوسلاویہ کا جرائم ٹربیونل انسانی نسل کشی قرار دے چکا ہے اور اس سلسلے میں بوسنیائی سرب فوج کے سابق سربراہ رادوان کرادچ اور ان کے اہم کمانڈر رادکو ملادچ پر جنگی جرائم اور نسل کشی کے الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔
حکام نے کرادچ کو 2008 جبکہ ملادچ کو 2011 میں گرفتار کیا تھا۔ اب تک بوسنیائی سرب فوج اور پولیس کے 38 اہلکاروں پر سربرنیتزا کے قتل عام کا جرم ثابت ہو چکا ہے۔
.......
/169